15 اشعار

کتھارسس

Catharsis

ہم انہیں پالتے ہیںاپنے بچوں کی طرح

اپنا خون پلا کراپنے حصے کا رزق کھلا کر

انہیں سیر کراتے ہیںمیلے ٹھیلے اور بازاروں کی

اپنی انگلی تھما کرکبھی انہیں

رزق برق لباس پہنا کرچھوڑ دیتے ہیں گھنے جنگل میں

بے تحاشہ رقص کرنے کے لیےکبھی کہتے ہیں

ندی کے کنارے پھسلن بھری ڈھلان پردوڑ کر تتلیاں پکڑنے کو

اور قہقہے لگاتے ہیںان کے گر جانے پر

کبھی انہیں کہتے ہیںچاند کی بنجر زمین پر

گلاب کی کاشت کرنے کے لیےاور پھر سوگوار ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں

ان کی محرومیوں پراور جب اکتا جاتے ہیں

اس کھیل سےبرف کے سفید کفن میں لپیٹ کر

رات کے ہیبت ناک اندھیارے کی قبر میںسلا دیتے ہیں اپنی خواہشوں کو

ہمیشہ کے لیےاور لطیفے سنانے لگتے ہیں

دوستوں کو

— نعمان شوق