9 اشعار

بھیک

Bheek

کسی مندر کی گھنٹی سےڈرا سہما ہوا بھگوان

اک ٹوٹے ہوئے ویران گھر میں جا چھپے گااور پجاری

خون میں ڈوبے ہوئے ترشول لے کردیویوں اور دیوتاؤں کو پکاریں گے

صلیبیں بھی سبھی خالی ملیں گیہر طرف گرجا گھروں میں

کیوں کہ سب معصوم طینت لوگگلی کے موڑ پر سولی سے لٹکے

دعائے مغفرت میں ہر گھڑی مصروف ہوں گےقاتلوں کے واسطے

اذانوں میںخدائے پاک کے ہر ذکر کے بدلے

شاید کسی قہار یا جبار کیحمد و ثنا ہوگی

ہم اپنی عاقبت کی بھیک مانگیں گےخدا کے نیک بندوں سے

— نعمان شوق