18 اشعار

چاہت ندیا چاہت ساگر

Chahat nadiya chahat saagar

چاہت ندیا چاہت ساگر

«چاہت ندیا چاہت ساگر» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

چاہت ندیا چاہت ساگرچاہت دھرتی چاہت انبر

چاہت رادھا چاہت گردھردل کا دھڑکنا یہ ہی چاہت ہے

نیند نہ آنا یہ ہی چاہت ہےچاہت نہ ہوتی کچھ بھی نہ ہوتا

میں بھی نہ ہوتی تو بھی نہ ہوتاتم مجھ سے الگ کب ہو

میں تم سے جدا کب ہوںپانی میں کنول جیسے

رہتے ہو مجھی میں تمدیکھوں تو تمہیں دیکھوں

سوچوں تو تمہیں سوچوںساگر میں ندی جیسے

بہتے ہو مجھی میں تمچاہت خوشبو چاہت رنگت

چاہت مورت چاہت قدرتچاہت گنگا چاہت جمنا

ہوش گنوانا یہ ہی چاہت ہےجان سے جانا یہ ہی چاہت ہے

چاہت نہ ہوتیجب تو نہیں ہوتا ہے

اس وقت بھی ہر شے میںہر گیت میں ہر لے میں

تو ہی نظر آتا ہےبکھرا کے کبھی زلفیں

چمکا کے کبھی چہرہتم ہی مری دنیا کے

دن رات سجاتے ہوچاہت گھونگھٹ چاہت درپن

چاہت سجنی چاہت ساجنچاہت پوجا چاہت درشن

آنکھ بھر آنا یہ ہی چاہت ہےجی گھبرانا یہ ہی چاہت ہے

چاہت نہ ہوتی

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں