6 اشعار

کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے

Kahin kahin se har chehra tum jaisa lagta hai

کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے

«کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہےتم کو بھول نہ پائیں گے ہم ایسا لگتا ہے

ایسا بھی اک رنگ ہے جو کرتا ہے باتیں بھیجو بھی اس کو پہن لے وہ اپنا سا لگتا ہے

تم کو بھول نہ پائیں گے ہماور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن

کبھی کبھی یوں ہی چلتا پھرتا شہراچانک تنہا لگتا ہے

تم کو بھول نہ پائیں گے ہماب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے

جیسے ان سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہےتم کو بھول نہ پائیں گے ہم

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں