5 اشعار

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے

Baat kam keejiye zehnayat ko chhupate rahiye

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے

«بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیےاجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہیے

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہدل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے

یہ تو چہرے کا فقط عکس ہے تصویر نہیںاس پہ کچھ رنگ ابھی اور چڑھاتے رہیے

غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہےجس جگہ رہیے وہاں ملتے ملاتے رہیے

جانے کب چاند بکھر جائے گھنے جنگل میںگھر کی چوکھٹ پہ کوئی دیپ جلاتے رہیے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں