6 اشعار

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

Kuchh bhi bacha na kehne ko har baat ho gai

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

«کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئیآؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

پھر یوں ہوا کہ وقت کا پانسہ پلٹ گیاامید جیت کی تھی مگر مات ہو گئی

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہاکھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی

وہ آدمی تھا کتنا بھلا کتنا پرخلوصاس سے بھی آج لیجے ملاقات ہو گئی

رستے میں وہ ملا تھا میں بچ کر گزر گیااس کی پھٹی قمیص مرے ساتھ ہو گئی

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئےاس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

— ندا فاضلی