5 اشعار

یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہے

Yeh jo phaila hua zamana hai

یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہے

«یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہےاس کا رقبہ غریب خانہ ہے

کوئی منظر سدا نہیں رہتاہر تعلق مسافرانہ ہے

دیس پردیس کیا پرندوں کاآب و دانہ ہی آشیانہ ہے

کیسی مسجد کہاں کا بت خانہہر جگہ اس کا آستانہ ہے

عشق کی عمر کم ہی ہوتی ہےباقی جو کچھ ہے دوستانہ ہے

— ندا فاضلی