12 اشعار

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں

Khilāyā partav-e-ruḳhsār ne kyā gul samundar mein

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں

«کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میںحباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میں

ہمارے آہ و نالہ سے زمانہ ہے تہ و بالاکبھی ہے شور صحرا میں کبھی ہے غل سمندر میں

کسی دن مجھ کو لے ڈوبے گا ہجر یار کا صدمہچراغ ہستیٔ موہوم ہوگا گل سمندر میں

نہ چھیڑو مجھ کو میں غواص ہوں دریائے معنی کانہ ڈھونڈو مجھ کو مستغرق ہوں میں بالکل سمندر میں

تمہیں دریائے خوبی کہہ دیا غرق ندامت ہوںکہاں یہ ناز و غمزہ عارض و کاکل سمندر میں

پڑا تھا عکس روئے نازنیں عرصہ ہوا اس کوپر اب تک تیرتا پھرتا ہے شکل گل سمندر میں

اٹھی موج صبا جنباں سے شاخ آشیاں پیہمچلی جاتی ہے گویا کشتی بلبل سمندر میں

وہ پائیں باغ میں پھرتے ہیں میں فکروں میں ڈوبا ہوںتماشا ہے کہ گل گلشن میں ہے بلبل سمندر میں

ابھی تو سیر کو جانا لب دریا وہ سیکھے ہیںابھی تو دیکھیے کھلتے ہیں کیا کیا گل سمندر میں

خیال یار کیوں کر آ گیا طوفان گریہ میںخدا معلوم کس شے کا بنایا پل سمندر میں

کبھی گریہ کا طوفاں ہے کبھی حیرت کا سناٹاکبھی بالکل ہوں صحرا میں کبھی بالکل سمندر میں

وہ ظالم عاشق آزاری کی پرویںؔ مشق کرتا ہےدکھا کر بلبلوں کو ڈالتا ہے گل سمندر میں

— پروین ام مشتاق