9 اشعار

غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا

Gharīb ādmī ko ṭhāṭ bādshāhī kā

غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا

«غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کایہ پیش خیمہ ہے ظالم تری تباہی کا

خدنگ آہ کو روکے رہا ہوں فرقت میںخیال ہے مجھے افلاک کی تباہی کا

امید کیسے ہو محشر میں سرخ روئی کیہمیشہ کام کیا ہو جو رو سیاہی کا

سلام تک نہیں لیتے کلام تو کیسافقیری میں بھی تبختر ہے بادشاہی کا

شکست و فتح کا ذمہ نہیں دل ناداںلڑے ہزار میں یہ کام ہے سپاہی کا

خضاب کرتے ہیں دنیا سے جب گئے گزرےشگون کرتے ہیں پیری میں رو سیاہی کا

نہ آسماں کی عنایت نہ مہرباں وہ شوخنہ پوچھو حال غریبوں کی بے پناہی کا

سفید بالوں پہ کس واسطے خضاب لگائیںگیا زمانہ جوانی میں رو سیاہی کا

خطائیں ہو گئیں معدوم حج سے اے پرویںؔگواہ خود ہے خدا میری بے گناہی کا

— پروین ام مشتاق