9 اشعار

میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص

Mere li.e hazār kare ihtimām-e-hirs

میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص

«میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرصمیں وہ ہوں مجھ پہ ڈال سکے گی نہ دام حرص

ہے کچھ نہ کچھ ہر آدمی کو لا کلام حرصلیکن نہ اس قدر کہ بنا لے غلام حرص

اے زلف پھیل پھیل کے رخسار کو نہ ڈھانککر نیم روز کی نہ شہ ملک شام حرص

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہےہے سر سے پاؤں تک یہ ستمگر تمام حرص

دل چھین عاشقوں کے مگر ہوشیار رہایسا نہ ہو کہ دل کو بنا لے غلام حرص

ناقص رہیں گے سارے تلون سے کاروبارکرنے نہ دے گی تجھ کو یہاں کوئی کام حرص

قبضہ اٹھائے گی نہ دل روزگار سےجب تک نہ زندگی کا کرے اختتام حرص

مدت سے اشتیاق ہے بوس و کنار کاگر حکم ہو شروع کرے اپنا کام حرص

پرویںؔ لگی ہوئی ہے خدا سے مجھے امیددل کو مرے بنائے نہ اپنا غلام حرص

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں