11 اشعار

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں

Dil pukārā phañs ke kū-e-yār mein

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں

«دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میںروک رکھا ہے مجھے گل زار میں

فرق کیا مقتل میں اور گل زار میںڈھال میں ہیں پھول پھل تلوار میں

لطف دنیا میں نہیں تکرار میںلیکن ان کے بوسۂ رخسار میں

تھا جو شب کو سایۂ رخسار میںتازگی کتنی ہے باسی ہار میں

فرط مایوسی نے مردہ حسرتیںدفن کر دی ہیں دل بیمار میں

شاد ہو جاتی ہے دنیا اے روپےکیا کرامت ہے تری جھنکار میں

آتش الفت کی دھڑکن بڑھ گئیگر پڑا دل شعلۂ رخسار میں

آہ کے قبضہ میں ہے تاثیر یاتیغ ہے دست علمبردار میں

نشتر مژگاں کی تیزی کے سببایک کانٹا ہے دل پر خار میں

آب پیکاں پاس ہے لیکن نصیبپھر بھی خشکی ہے لب سوفار میں

خیر ہو پرویںؔ دل مضطر مرالے چلا پھر کوچۂ دل دار میں

— پروین ام مشتاق