دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
کلام: پیر نصیرالدین
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسےآخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے
کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرویوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسےآخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے
کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرویوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے
ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانےکیا کہا بہاروں نے ، بات یہ صبا جانے
وہ ہمیں الگ سمجھے ، وہ ہمیں جدا جانےہم جنہیں زمانے میں، اپنا آشنا جانے