8 اشعار

ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماں

Hum ka dikhai det hai aisi roop ki agyat saajan maan

ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماں

«ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماںجھونس رہا ہے تن من ہمرا نیر بھر آئے اکھین ماں

دور بھئے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماںپورب پچھم اتر دکھن ڈھونڈھ پھری میں بن بن ماں

یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پرساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گلشن ماں

درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسن اکھیاں دیکھن کاہم سے روٹھے منہ کو چھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیںاپنا کر کے رکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

چھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنےچاند سا مکھڑا لے کر تم آ نکلو مورے ماں

جیون آگ بگولا ہردے آس نہ اپنے پاس کوئیتیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نردھن ماں

ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیرؔ اب متوالاچتون میں جادو کا جتن ہے رس بھرے تورے نینن ماں

— پیر نصیرالدین