11 اشعار

یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا

Yeh kaam hum ne junoon mein kya kya na kiya

یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا

«یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیاہوا جو چاک‌ گریباں سیا سیا نہ سیا

وفور شوق میں کیا اعتبار سانسوں کارہا رہا نہ رہا میں جیا جیا نہ جیا

ہم آتے جاتے رہے میکدے میں شام و سحرشریک جام کسی نے کیا کیا نہ کیا

پیالہ ہاتھ میں لینا ہی مے گساری ہےبلا سے گھونٹ جو ہم نے پیا پیا نہ پیا

ہمارا فرض تو یہ ہے کہ ہم گلہ نہ کریںصلہ وفاؤں کا اس نے دیا دیا نہ دیا

تمام عمر حسینوں کو ٹوٹ کر چاہاانہوں نے نام ہمارا لیا لیا نہ لیا

سلام شوق کیا جب کوئی ملا ہم کوجواب چاہے کسی نے دیا دیا نہ دیا

چلے بھی آئیے کل کا کچھ اعتبار نہیںمریض ہجر سحر تک جیا جیا نہ جیا

ہم اپنی منزل مقصود کی لگن میں رہےہمارا ساتھ کسی نے دیا دیا نہ دیا

خدا گواہ محبت تو کی وفا نہ سہییہ ایک زہر کا پیالہ پیا پیا نہ پیا

نصیرؔ خیر سے ہو جائے گی حیات بسرکسی کا ہم نے سہارا لیا لیا نہ لیا

— پیر نصیرالدین