بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے
کلام: پیر نصیرالدین
بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھےکر دیا ہو نہ کہیں تو نے فراموش مجھے
تیری آنکھوں کا یہ مے خانہ سلامت ساقیمست رکھتا ہے ترا بادۂ سرجوش مجھے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھےکر دیا ہو نہ کہیں تو نے فراموش مجھے
تیری آنکھوں کا یہ مے خانہ سلامت ساقیمست رکھتا ہے ترا بادۂ سرجوش مجھے
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہےجس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے
مرحب دو نیم ہے سر خیبر پڑا ہوااٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے