یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے
کلام: پیر نصیرالدین
یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹےمگر آزارِ جاں ہوتے ہیں کانٹے
گُلوں سے راہ و رسم اچّھی نہیں ہےرگِ گُل میں نہاں ہوتے ہیں کانٹے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹےمگر آزارِ جاں ہوتے ہیں کانٹے
گُلوں سے راہ و رسم اچّھی نہیں ہےرگِ گُل میں نہاں ہوتے ہیں کانٹے
نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہےنہ وہ رند ہیں ، نہ وہ ہاو ہوَ نہ وہ دور ہے ، نہ وہ جام ہے
وہ ہے خوش نصیب جسے ملے ، مئے معرفت کا یہ جام ہےجو وہ خود پلائیں حلال ہے ، نہ پلائیں وہ ، تو حرام ہے