12 اشعار

سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعد

Silsila toote na saaqi hosh ud jaane ke baad

سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعد

«سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعد» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعدمجھ کو ملتا ہی رہے پیمانہ پیمانے کے بعد

کھو دیا دنیا میں جو کچھ تھا تجھے پانے کے بعدجان سے جانا پڑا ہم کو ترے آنے کے بعد

تو ہی تھا وہ شمع جس کی روشنی تھی ہر طرفرنگ محفل میں کہاں اب تیرے اٹھ جانے کے بعد

جاؤ بیٹھو چین سے میں کیا کہوں تم کیا سنواب پشیمانی سے کیا حاصل ستم ڈھانے کے بعد

اس کا کیا کہنا ہے زاہد کے ٹھکانے ہیں بہتیہ کسی مسجد میں جا بیٹھے گا مے خانے کے بعد

شمع محفل رویئے یا ہنس کر گزارے صبح تککون اب جلنے یہاں آئے گا پروانے کے بعد

حسن رخ کی اک جھلک نے کر دئے اوسان گمہوش آیا تو مگر ان کے چلے جانے کے بعد

سچ ہے کوئی بھی شریک درد و غم ہوتا نہیںہو گئے احباب رخصت مجھ کو سمجھانے کے بعد

اب اپنا کہتے ہو کہ جا میری نظر سے دور ہوتم منانے آؤ گے مجھ کو مرے جانے کے بعد

طائر دل خال تو دیکھا خم گیسو بھی دیکھدام بھی تجھ کو نظر آ جائے گا دانے کے بعد

وحشت دل کی بدولت ہم چلے آئے یہاںدیکھیے اب کون سی منزل ہے ویرانے کے بعد

کون روتا ہے کسی کی خستہ حالی پر نصیرؔزیر لب ہنستی ہے دنیا میرے لٹ جانے کے بعد

— پیر نصیرالدین