9 اشعار

ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیں

Zulm hum par har aan hote hain

ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیں

«ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیںرات دن امتحان ہوتے ہیں

آپ سے کیا کوئی توقع ہوآپ کب مہربان ہوتے ہیں

حسن کی سادگی کا کیا کہناعشق پر سو گمان ہوتے ہیں

کوئی ان کو مٹا نہیں سکتاغم کے ایسے نشان ہوتے ہیں

ظلم سہتے ہیں کچھ نہیں کہتےاہل دل بے زبان ہوتے ہیں

دیدہ و دل کی آبرو آنسوغم کے یہ ترجمان ہوتے ہیں

آپ کو بے وفا کہا کس نےآپ کیوں بد گمان ہوتے ہیں

برق تنکے وہی جلاتی ہےجو نشیمن کی جان ہوتے ہیں

اتنا آساں نہیں ہے عشق نصیرؔاس میں سو امتحان ہوتے ہیں

— پیر نصیرالدین