16 اشعار

ملاقات

Mulaqaat

بعد ایک مدت کےاجنبی سے چہروں میں

خواب خواب آنکھوں میںدرد کی سماعت میں

بے دلی کی ساعت میںایک اجنبی صورت

آشنا نظر آئیخواب خواب آنکھوں میں

روشنی سی لہرائیدرد کی سماعت نے

دل کی کچھ خبر پائیاس نے گرم جوشی سے ہاتھ بھی ملایا تھا

بعد ایک مدت کے میں بھی مسکرایا تھااس نے میرے شانے کو چوم ہی لیا آخر

میں بھی ایک لمحے کو جھوم ہی لیا آخرآؤ اک ذرا سی دیر لان ہی میں ٹہلیں گے

جو بھی کہنا سننا ہے ہو سکا تو کہہ لیں گےشاید ایک مدت کی بیکلی بھی کل پائے

اور ہماری قسمت سے چاند بھی نکل آئےاک اداس سناٹا اور شب زمستاں کی

بے سخن کہی ہم نے بات درد پنہاں کیچاند نے بھی چپکے سے کچھ کہا تو تھا ہم سے

میرے الجھے بالوں سے اس کی زلف برہم سےوہ تھی چاند تھا میں تھا

یوں تو کتنے چہرے تھےاپنی ذات کے اندر

ہم سبھی اکیلے تھےسرد سرد اک چہرہ

زرد زرد اک چہرہگرد گرد اک چہرہ

درد یافتہ چہرے ہجر یافتہ چہرےجیسے رو بہ رو اپنے آئینے سے رکھے تھے

— پیرزادہ قاسم