23 اشعار

تنہائی

Tanhaai

اس صف میں بھی سب دشمن ہیںاس صف میں بھی سب دشمن ہیں

جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالےاور دل میں نفرت کو پالے

بارود کے ڈھیر پہ بیٹھے ہیںبس اک ساعت کی دوری پر

اس انساں کی مجبوری پرکوئی رونے والا بھی تو نہیں

کوئی ہنسنے والا بھی تو نہیںاس ساعت خوں آشام سے تھی

وہ ساری رونق منظر کیاس ساعت دل آزار سے ہے

اک زرد اداس سی خاموشیاس منظر سے اس منظر تک

اک منظر تھا اب وہ بھی نہیںاک کٹنے والی گردن تھی

اک خنجر تھا اب وہ بھی نہیںاب وہ بھی نہیں جو دیکھتے ہوں

یہ جیت ہوئی یا ہار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو کہتے ہوں

یہ زیست ہمیں آزار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو لکھتے ہوں

احوال جسے تاریخ کہیںاب یہ بھی نہیں کہ یہ لاشے

مٹی میں ملیں گلزار بنیںاب انساں کھیت نہ حیواں ہیں

گھر مدرسے دفتر اور نہ ملیںانگشت کی اک جنبش سے کہیں

میزائل داغا جا بھی چکااک جوہری رقص کے تھمنے تک

جو دور حیات تھا جا بھی چکااس زیست کے بندی خانے سے

ہم مثل اجل آزاد ہوئےیہ کیسے ملک بسائے تھے

اک لمحے میں برباد ہوئےہے آخری منظر تاراجی

ہوں جس کا ایک حوالہ میںیہ منظر کیسا منظر ہے

جسے تنہا دیکھنے والا میںاب اس صف میں بھی کوئی نہیں

اب اس صف میں بھی کوئی نہیںمیں تنہا بیٹھا سوچتا ہوں

کچھ جینے کا امکان تو ہوآ بیٹھے پاس جو دشمن کے

دشمن ہی سہی انسان تو ہو

— پیرزادہ قاسم