16 اشعار

روشنی

Roshni

وہ جو زندگی کا قرار تھیوہی صبح نور کہاں گئی

وہ جو خواب ناز تھے کیا ہوئےمئے پر سرور کہاں گئی

وہ جو انتظار قرار تھاوہی انتظار رار ہے

وہ دکھن ہے دل میں نہاں ابھیدل ناصبور کہاں گئی

وہی تیرگی کا حصار ہےشب و روز پر مہ و سال ہے

ہے جوار قلب پہ تیرگیابھی دل سے دور کہاں گئی

مرے شہریار تری سماعت شوق بیشمگر یہاں

وہ ہے کون جس نے فغاں نہ کیپہ ترے حضور کہاں گئی

یہاں اب مآل گزشتہ شبنئی ایک شب کا نفاذ ہے

وہ جو صبح فردا کی آرزو تھیتھکن سے چور کہاں گئی

اسی تیرگی میں یہ نور کیجو لکیر پھوٹی ہے آہ سے

عجب ایک منظر جاں فزاکہ گزر رہا ہے نگاہ سے

ابھی کون قریۂ جاں سےسوئے عدم گئے ہیں لہو لہو

کہ عجب چراغ سے جل اٹھےسر قتل گاہ گلو گلو

اسی روشنی میں تمام چہرےکہ آئے جاتے ہیں رو بہ رو

کوئی سر کشیدہ و خندہ زنکوئی سر خمیدہ سیاہ رو

— پیرزادہ قاسم