16 اشعار

زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005

Zalzala aath October 2005

اس روشن صبح کے دامن میںاک سورج قہر کا چمکا تھا

اک تارا جی کا نغمہ تھاجو وادی وادی گونجا تھا

اک پروائی تھی وحشت کیاک فطرت کا نقارا تھا

نادیدہ تھا وہ دست اجلجو دشت و جبل لرزاتا تھا

اور پاؤں تلے سے دھرتی کوبے وہم و گماں سرکاتا تھا

اک کھیل رہا کچھ لمحوں کاکچھ لمحے تھے جو آئے گئے

سب نوحے نیست کے نوحے تھےنابود کی تال پہ گائے گئے

بستی اور بستی والے سبملبے کے تلے دفنائے گئے

اب جھیلنے والے جھیلیں گےجو دکھ ہے بچھڑنے والوں کا

اک آگ فراق کی دہکی ہےیہ رستہ ہے انگاروں کا

بس اس پر چلنا اور جلنامقدور ہے غم کے ماروں کا

لیکن یہ رنگ بدلتے دنلیکن یہ بھید بھری دنیا

اسی راکھ سے خاک سے ابھرے گیکونپل کے سمان ہری دنیا

یہ وقت عجب مداری ہےسو کھیل تماشے لاتا ہے

اک منظر ہنسنے والا ہےاک منظر خون رلاتا ہے

اور وہ جو سب کا والی ہےہر منظر دیکھے جاتا ہے

— پیرزادہ قاسم