20 اشعار

اندھے پجاری

Andhe Pujari

یہ کون لوگ سر میکدہ پہنچ آئےچھلک رہا ہے لہو ہی لہو ایاغوں سے

یہ کون لوگ ہیں جو زندگی کے محلوں کوسجانے آئے ہیں بجھتے ہوئے چراغوں سے

برس رہا ہے اندھیرا جبیں کے داغوں سےیہ کون لوگ ہیں جو آفتاب سے چھپ کر

پرانی شمعوں پہ نظریں جمائے پھرتے ہیںیہ کون لوگ ہیں جو ارتقا کی منزل میں

نئی حیات سے دامن بچائے پھرتے ہیںروایتوں کے جنازے اٹھائے پھرتے ہیں

انہیں پسند نہیں شاخ گل کی رعنائیسلوک باد چمن ناگوار ہے ان کو

بھٹک رہے ہیں یہ ماضی کے ریگ زاروں میںبہار نو کا تصور بھی بار ہے ان کو

جو فصل بیت چکی اس سے پیار ہے ان کوبھرا ہے عہد کہن کا غبار آنکھوں میں

انہیں گراں ہے نئی کائنات کا پرتویہ مندروں کے پجاری یہ مسجدوں کے امام

یہ تیرگی کے مسافر یہ رات کے رہروافق کو نوچ رہے ہیں کہ توڑ لیں مہ نو

ہوس کی قید میں ہے آبروئے لالہ و گلچمن فروش بنے ہیں چمن کے رکھوالے

ذرا سنبھل کے چلے کاروان رنگ و نموکہ خار بیٹھے ہیں پھولوں کی چلمنیں ڈالے

صبا کے بھیس میں پھرتے ہیں لوٹنے والےیہ لوگ حلقۂ دام خیال کہتے ہیں

فروغ‌ علم کو سائنس کی ترقی کویہ کم نگاہ مداوائے درد انسانی

سمجھ رہے ہیں پراچین سنسکرتی کوصدائیں دیتے ہیں صدیوں کی تیرہ بختی کو

زبان و فرقہ و مذہب کے غار میں یہ لوگہوئے ہیں غرق کچھ ایسے ابھر نہیں سکتے

اٹے ہیں گرد میں جب تک دلوں کے آئینےنئے نقوش میں ہم رنگ بھر نہیں سکتے

نگار ہند کے گیسو سنور نہیں سکتےجلیں نہ روح میں جب تک محبتوں کے چراغ

طلسم تیرہ خیالی سے ہم نہ چھوٹیں گےوہ لوگ معبد انسانیت کی سیر کریں

جو کہہ رہے ہیں کہ دیر و حرم نہ چھوٹیں گےجو ضد میں ہیں کہ پرانے صنم نہ چھوٹیں گے

— قیصر الجعفری