9 اشعار

خون کے پھول

Khoon Ke Phool

جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کابلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہے

اڑے جہاں سے شہیدوں کے جسم کی خوشبوبہار آ کے گلے اس چمن سے ملتی ہے

جو ساتھ لائے صلیب و کفن کی سوغاتیںوہ موت ناز و ادا میں دلہن سے ملتی ہے

وفا بغیر لہو سرخ رو نہیں ہوتییہ راہ منزل دار و رسن سے ملتی ہے

نکھار دیتی ہے آئینہ جبین وطنشعاع رنگ جو زخم بدن سے ملتی ہے

وہ روشنی جو لب زخم سے ابھرتی ہےافق پہ ناچتی ہنستی کرن سے ملتی ہے

وہ سرخیٔ سر دامن جو ہو وطن کے لئےجمال لالہ و سرو و سمن سے ملتی ہے

وہ موت جس سے مہکتے ہیں زندگی کے چمنبڑے خلوص بڑے بانکپن سے ملتی ہے

حیات پھول بکھیرے تمہاری راہوں میںکہ تم نے عید منائی ہے رزم گاہوں میں

— قیصر الجعفری