14 اشعار

شعلۂ حنا

Sho'la-e-Hina

یہ رات مشعل ارماں جلانے آئی ہےمگر نظر میں اندھیرا سا چھا رہا ہے کیوں

وہ غم کدہ جسے ٹھکرا دیا محبت نےبھلا رہی ہوں مگر یاد آ رہا ہے کیوں

یہ کامیاب ارادے یہ مضمحل لمحےیہ آج زیست میں آخر تضاد کیسا ہے

ہجوم کیف میں بھی روح بے قرار ہے کیوںیہ اضطراب دل نامراد کیسا ہے

قریب و دور مسلط ہے خامشی لیکنفضاؤں میں کسی طوفاں کا شور برپا ہے

یہ رات ہے کہ قیامت یہ تیرگی ہے کہ موتچراغ جل تو گئے ہیں مگر اندھیرا ہے

غم حیات کی پرچھائیوں سے ڈرنا کیامیں زندگی کے نئے خواب بن کے آئی ہوں

اب اس دیار میں واپس بھی ہو نہیں سکتیکہ اپنی پشت پہ دیوار چن کے آئی ہوں

لبوں پہ موج تبسم ہے دل میں گرد ملالمیں خوش تو ہوں مگر آنکھوں سے اشک بہتے ہیں

مری اداس جوانی نے مجھ سے پوچھا ہےسہاگ رات اسی بے بسی کو کہتے ہیں

نہ باپ بھائی کے ہونٹوں پہ آئی کوئی دعانہ ماں نے پیار سے رخصت کیا گلے مل کے

ہتھیلیوں میں ہے مہندی نہ مانگ میں افشاںمچل کے رہ گئے سینے میں ولولے دل کے

رہ حیات کے ساتھی ترا سہارا ہےمری وفا مری جرأت کی آبرو رکھنا

ترے لئے میں زمانے کو چھوڑ بیٹھی ہوںمرے غرور محبت کی آبرو رکھنا

— قیصر الجعفری