18 اشعار

خاک پروانہ

Khaak-e-Parwana

چتا کو جب ترا ٹھنڈا بدن سونپا گیا ہوگاشرارے کھل گئے ہوں گے دھواں لہرا گیا ہوگا

قضا کو شرم کے مارے پسینہ آ گیا ہوگایہ منظر دیکھنے والوں سے کب دیکھا گیا ہوگا

محبت کے پرستاروں وفا کے سوگواروں نےنگاہیں پھیر لی ہوں گی ترے ماتم گساروں نے

نظارے شہر و ساحل کے پریشاں ہو گئے ہوں گےڈھلی ہوگی جو شام غم ستارے سو گئے ہوں گے

شعاعیں بجھ گئی ہوں گی اجالے کھو گئے ہوں گےتری ٹھنڈی چتا پر شب کے سائے رو گئے ہوں گے

اگا ہوگا جو پورا چاند دھبا بن گیا ہوگاسیہ آنچل سا جمنا کے کنارے تن گیا ہوگا

تماشے زندگی بھر تو نے سوز دل کے دیکھے تھےغبار رہ گزر میں راستے منزل کے دیکھے تھے

نظارے حلقۂ گرداب سے ساحل کے دیکھے تھےتری آنکھوں نے جتنے خواب مستقبل کے دیکھے تھے

نئی پود آج ان خوابوں کی ذمہ دار ہوتی ہےنہ گھبرا مرنے والے زندگی بیدار ہوتی ہے

تری فکروں کے دھارے بہہ چلے گنگ و جمن بن کےترے آدرش نے دھرتی کو ڈھانکا ہے گگن بن کے

ترے دل کے لہو سے کھل گئی مٹی چمن بن کےوطن کا گوشہ گوشہ مسکرا اٹھا دلہن بن کے

تری صورت کسی کو جاوداں ہوتے نہیں دیکھاکسی قطرے کو اتنا بے کراں ہوتے نہیں دیکھا

تری گفتار میں باد صبا کی گل فشانی تھیترے افکار میں دریا کے پانی کی روانی تھی

تری تہذیب اک عہد محبت کی نشانی تھیتری ذات ایک دور جہد کی زندہ کہانی تھی

بہت مشکل ہے کوئی یوں وطن کی جان ہو جائےتجھے پھیلا دیا جائے تو ہندوستان ہو جائے

زمیں ماتم کدہ ہے آسماں تیرا عزا خانہترے پھولوں سے مہکے دشت و دریا شہر و ویرانہ

ہوا میں تیری خوشبو پانیوں میں تیرا افسانہفنا ہو کر فنا ہوتی نہیں ہے خاک پروانہ

کرن بن کر حریم وقت کی چلمن سے چھنتی ہےیہی مٹی سمٹ کر پھر نیا پروانہ بنتی ہے

— قیصر الجعفری