8 اشعار

ہم ترے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

Hum Tere Shehar Mein Aaye Hain Musafir Ki Tarah

ہم ترے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرحصرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نےاپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے

میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دےآج کی رات مرا درد محبت سن لے

کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سن لےآج اظہار خیالات کا موقع دے دے

میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاںصبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں

سوچنے کے لیے اک رات کا موقع دے دےبھولنا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا

بے وفا تو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھاصرف دو چار سوالات کا موقع دے دے

ہم ترے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرحصرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

— قیصر الجعفری