15 اشعار

فصیل شب

Faseel-e-Shab

دامن دل پہ غبار رہ منزل ہے ابھیپائے افکار میں دیرینہ سلاسل ہے ابھی

تیرگی شعلۂ احساس کا حاصل ہے ابھیروشنی قید میں دن کاٹ رہی ہے اب تک

تشنگی دل کا لہو چاٹ رہی ہے اب تکجو نفس ہے ہدف دشنۂ قاتل ہے ابھی

دل کے ہر زخم سے رستا ہے امیدوں کا لہوریگ زاروں نے کیا خون بہاراں سے وضو

جانے کس راہ میں ہے قافلۂ رنگ و نموایک اک شاخ شگوفوں سے ہے خالی اب تک

میکدہ ڈھال لیا مے نہیں ڈھالی اب تکنہ کہیں رقص بہاراں ہے نہ جشن لب جو

روشنی اوڑھ کے ظلمت کا کفن آئی ہےخون میں ڈوب کے سورج کی کرن آئی ہے

زخم جاں بن کے صبا سوئے چمن آئی ہےلب و رخسار تمنا پہ نکھار آ نا سکا

اہل دل کو سر منزل بھی قرار آ نہ سکاپھر وہی رہ گزر دار و رسن آئی ہے

پھر وہی خواب سحر لے کے چلے ہیں ہم لوگمشعل خون جگر لے کے چلے ہیں ہم لوگ

ان اندھیروں کا بھرم توڑ کے دم لینا ہےہاں فصیل شب غم توڑ کے دم لینا ہے

تیشۂ فکر و نظر لے کے چلے ہیں ہم لوگکچھ دنوں کشمکش جبر و ستم اور سہی

کچھ دنوں سوز دروں دیدۂ غم اور سہیگام دو گام سواد شب غم اور سہی

صبح نو اب کسی دیوار کے گھیرے میں نہیںہم اندھیرے میں ہیں منزل تو اندھیرے میں نہیں

اتنی دور آئے تو دو چار قدم اور سہی

— قیصر الجعفری