11 اشعار

اولاد

Aulaad

بہار آئے گی پھوٹے گی شاخ سے کونپلشکست برگ خزاں سے یقین ہوتا ہے

جو تم ہو ساتھ تو محسوس ہو رہا ہے مجھےخزاں نصیب چمن بھی حسین ہوتا ہے

ہتھیلیوں سے حنا تک ابھی نہ چھوٹی تھیگلے کے پھول بھی باسی نہ ہونے پائے تھے

کہ وہ حسین و جواں سال خواب ٹوٹ گئےسہاگ رات جو افشاں میں جگمگائے تھے

زمانہ کوکھ جلی کہہ رہا ہے کہنے دوتمہارے ہاتھ میں قسمت کا فیصلہ تو نہیں

تمہارا کام ہے پھولوں کی آرزو کرناتمہارے بس میں بہاروں کا قافلہ تو نہیں

نفس نفس پہ یہ احساس تیرگی کیساپلک پلک میں ستارے پرو رہی ہو کیوں

تمہیں تمام چمن میں نے سونپ رکھا ہےتم اک کلی کے لیے جان کھو رہی ہو کیوں

غریب قوم کے یہ ہونہار شہزادےتم اپنے پیار کی رعنائیاں انہیں دے دو

تم اپنے دل کی محبت بکھیر دو ان پرتم اپنی روح کی تنہائیاں انہیں دے دو

کہیں کھلے ہوں مگر کتنے پیارے پیارے ہیںیہ پھول اپنے نہیں ہیں مگر ہمارے ہیں

— قیصر الجعفری