7 اشعار

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

Tumhare shahar ka mausam bada suhana lage

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھےتمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبوکہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے

وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوبخدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میںوہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کرکہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔکہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے

— قیصر الجعفری