8 اشعار

بےقراری ہی بیقراری ہے

Beqarari hi beqarari hai

بےقراری ہی بیقراری ہے

«بےقراری ہی بیقراری ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بےقراری ہی بیقراری ہےتیری یادوں کی یہ خماری  ہے

ہر گھڑی دل پہ اک ادھاری ہےتیری دوری ہی جاں پہ بھاری ہے

رات آنکھوں میں کٹ نہیں پاتیہجر کی بھی کوئی  دلاری ہے

تو نہیں تو یہ شہر لگتا ہےجیسے صدیوں کا سوگ واری ہے

میں نے مانا قصور دل کا ہےپر تری بےرُخی بھی بھاری ہے

وقت رک سا گیا ہے تیرے بعدہر گھڑی ایک نئی ہی خواری ہے

کس سے کہیے کہ کس قدر تنہایہ محبت بھی جو ہماری ہے

اشک آنکھوں سے پوچھتے ہیں قمرکیا جدائی ہی رسمِ یاری ہے

— راجا اکرام قمر