7 اشعار

اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھا

Uske har waade par mujhe yaqeen tha

اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھا

«اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھااندازِ گفتگو اس کا دل نشیں تھا

قیام پذیر تھا، یہ شہر سارا جانےدل میں میرے، تو وہ کہیں اور مگر مکیں تھا

منفرد تھا وہ سب میں، اسی لیے نمایاں لگاویسے تو اس کے شہر کا ہر شخص حسیں تھا

احساسِ قربت مجھے مری بند آنکھوں میں رہاوہ نہ تھا پاس مرے، پھر بھی مرے قریں تھا

وہ کیا جانے مری شبِ فُرقت کے سناٹے کوہر وہ لمحہ جو گزر رہا تھا، کتنا حزیں تھا

ذرا ڈر جو اخراجِ مذہب نہ ہوتا تو یارودیکھتے تم، ہر عاشق اس کے بام پہ سجدہ جبیں تھا

کیسے بھولوں گا میں اس شام کا منظر قمرؔمیرے شانے سے سر لگائے بیٹھا وہ مہ جبیں تھا

— راجا اکرام قمر