9 اشعار

چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے

Charagh-e-Dil Ki Veerani Mein Hum Jalte Hue

چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے

«چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

بہر : بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوففِعْلن فِعْلن فِعْلن فِعْلن فِعْلن

چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئےہر ایک خواب کو تھامے سنبھالتے ہوئے

اک بار بھی ہم نے نہ کیا شکوۂ نصیبہر زخم کو ہونٹوں سے بتاتے ہوئے

وہ مسکرائے تو دل کی گہرائی چھلک گئیہم ٹوٹ ہی گئے تھے مسکراتے ہوئے

ہم نے تو فقط عشق کو سچ جانا تھادنیا نے رنگ دکھائے آزماتے ہوئے

کچھ خواب تھے جو نیند سے پہلے ہی بجھ گئےآنکھوں میں رہے دیر تلک تھرتھراتے ہوئے

خاموشیوں نے شور مچا رکھا تھا دل میںہم مر گئے تھے خود کو بتاتے ہوئے

اک عمر لگی خود سے شناسا ہونے میںہم خود سے ہی ملے سنبھالتے ہوئے

کبھی جو لوٹ آئے وہ خوابِ رفتہ، قمرہم مر ہی نہ جائیں خود کو مسکراتے ہوئے

— راجا اکرام قمر