11 اشعار

ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے

Humare Dil Mein Woh Rehta Hai Jo Makeen Kahin Aur Hai

ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے

«ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہےنظر کے سامنے ہو کر بھی وہ جبیں کہیں اور ہے

یہ اداسی، یہ ہجر، یہ خامشی کا سلسلہلبوں پہ مسکراہٹ ہے، پر یقیں کہیں اور ہے

ہم اپنے دکھ چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سےکہانی کچھ سنائی جائے، یقیں کہیں اور ہے

وہ ساتھ چل کے بھی تنہا ہمیں چھوڑ جاتا ہےقدم یہیں پہ ٹھہرے ہیں، مگر زمیں کہیں اور ہے

یہ آنکھ نم ہے مگر آنسو نہیں گواہی میںجو درد دل میں پلتا ہے وہ ہم نشیں کہیں اور ہے

ہم اپنی ذات کو کھو کر بھی ڈھونڈتے ہیں اسےوجود اپنا یہیں ہے، وہ مکیں کہیں اور ہے

ہمیں جو درد ملا ہے وہ بانٹتے کیسےزمانہ ساتھ تو ہے، پر قرین کہیں اور ہے

وہی چہرہ، وہی لہجہ، وہی باتیں ساریمگر دل کا وہ پہلا سا سکیں کہیں اور ہے

ہماری نیند بھی اب ہم سے روٹھ سی گئی ہےبدن یہیں پہ ہے لیکن سکیں کہیں اور ہے

ہم اس کی بزم میں شامل تو روز ہوتے ہیںمگر جو دل کو لگے وہ نشیں کہیں اور ہے

تمام عمر جسے ہم نے اپنا سمجھا قمرؔوہی تو سب سے زیادہ، قرین کہیں اور ہے

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں