8 اشعار

روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے

Rota Hai Chaman Mein Har Sahar Bulbul Tadapte Hue

روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے

«روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہر: مستفعلن مستفعلن مستفعلنردیف: ہوئے

ہم قافیہ: تڑپتے، سمیٹتے، جلاتے، سنبھالتے، جلائے، دیکھتے، بہاتے، مٹاتےروتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے

کیا جانے کوئی دردِ گل کانٹے سمیٹتے ہوئےیہ دل بھی کیا کرے اب یاد کے موسم میں

جلتا رہا ہے تنہا خود کو جلاتے ہوئےسوچا نہ تھا جدائی یوں روح تک اترے گی

ہم ٹوٹتے گئے ہیں خود کو سنبھالتے ہوئےوہ وعدے، وہ قسمیں، وہ خوابِ نیم شب

سب چھوٹ گئے خیالوں میں دل کو جلائے ہوئےخاموشیوں نے اوڑھ لی ہیں سب صدائیں اب

ہم بولتے نہیں ہیں، آنسو بہاتے ہوئےمیں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے، قمر

تکتا رہا ہوں عمر بھر اُس کو جاتے ہوئے

— راجا اکرام قمر