6 اشعار

اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئی

Uski aamad, shahar ki faza ko bahar kar gayi

اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئی

«اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئی» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئییہ دل جو سنبھلا تھا ابھی، پھر بے قرار کر گئی

ملاقاتِ رقیب اتفاقاً ہوئی تھی شایدوسوسے دل میں ہمارے مگر بے شمار کر گئی

حد میں رہے ہم، اپنی حد کو جانتے ہوئےیہی حد آج آنکھوں کو ہماری اشکبار کر گئی

اس پیکرِ حسن کا فقط ایک انکار تھا مگرمیری ساری حیات کو سرِ نوکِ خار کر گئی

یوں ملنا تو مقدر میں ہمارے نہیں تھا مگریک جا ہمیں قمرؔ کی کتابِ اشعار کر گئی

قمرؔ بہت سنبھل کے بھی انجام ٹل نہ سکااس کی ذرا سی مسکراہٹ وار کر گئی

— راجا اکرام قمر