8 اشعار

گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کے

Guzarte hi nahin lamhe shab-e-hijr ke

گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کے

«گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کےکم ہو گئے ہیں حوصلے شام و سحر کے

دل کی زمیں پہ ثبت ہیں قدموں کے سب نشانمٹتے نہیں ہیں نقش کبھی اس سفر کے

ہم نے جس شخص کو دنیا سمجھ لیا تھاوصال کے لمحے ملے اس سے مختصر کے

ٹوٹا سا آدمی ہوں اسی ایک غم میںخواب جب سے بکھر گئے عمر بھر کے

خاموشیوں نے گھیر لیا دل کو اس طرحرستے بھی اجنبی ہوئے اپنے سفر کے

یادوں کے شور میں بھی اکیلا ہی رہ گیاکہنے کو ساتھ ہیں کئی رشتے سفر کے

خاموش رات پوچھتی ہے ہر سحر مجھ سےلوٹتے ہیں کیا کبھی مسافر اس نگر کے

بچھڑا جو یار، ٹوٹ گئی سانس کی لڑیقمرؔ نہ ہو سکے کبھی لمحے بھی خیر کے

— راجا اکرام قمر