9 اشعار

وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں

Woh muqeem ussi shehar mein hai, milta nahin

وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں

«وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیںکُڑتا ہوں میں دل میں، مگر جلتا نہیں

راستے سب اُسی در پہ جاتے ہیں مگرچاہنے سے بھی در وا کبھی ملتا نہیں

یاد کی دھوپ میں دل کو جلایا ہے بہتہجر کی آگ بجھتی ہے، دل ہی بجھتا نہیں

وصل کی راہ میں دیوار حائل ہے ابھیآرزو کا در وا ہے مگر، ملتا نہیں

چاندنی میں بھی اُس کا سراپا ہے مگرخواب آنکھوں میں آتا ہے، مگر کھلتا نہیں

غم کی محفل میں بھی کوئی چراغاں نہ ہوادل کی بستی میں اجالا کبھی جلتا نہیں

زخم دل کے ہنستے ہیں، مگر مرہم نہ ملاوقت کا ہاتھ تھامے بھی سکوں ملتا نہیں

چاہتوں کے سفر میں بھی تنہائی ہے قمرغم کی محفل میں کوئی چراغ جلتا نہیں

میں ہوں شاعر قمر، دل کا چراغ جلتا نہیںوصل کی راہ میں بھی اب، کوئی سہارا ملتا نہیں

— راجا اکرام قمر