9 اشعار

قتلِ یار کا اہتمام ہو جائے

Qatl-e-yaar ka ehtimam ho jaaye

قتلِ یار کا اہتمام ہو جائے

«قتلِ یار کا اہتمام ہو جائے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

قتلِ یار کا اہتمام ہو جائےعشق کا کوئی انجام ہو جائے

جل چکا ہے پروانہشمع اب آرام ہو جائے

راہِ عشق میں آخرحسن کا کوئی کام ہو جائے

درد نے وفا کی ہےدل بھی ہم کلام ہو جائے

خاک ہو گیا چاہت میںعشق بدنام ہو جائے

اب نہ لو کی ضد باقیرات بھی تمام ہو جائے

رہ گئی ہے بس خوشبوجسم بے نام ہو جائے

آگ ہی نے سمجھایاوصل کا کام ہو جائے

خود میں ہی گم ہو جائے قمرؔجب یہ انکار تمام ہو جائے

— راجا اکرام قمر