6 اشعار

یہ جو خود کو ڈھونڈتا پھرتا تھا، اک گماں ہی رہا

Yeh jo khud ko dhoondta phirta tha, ik gumaan hi raha

یہ جو خود کو ڈھونڈتا پھرتا تھا، اک گماں ہی رہااصل میں وہ اپنے ہی سائے کا اک گماں ہی رہا

میں نے جب چھوڑا تصور خدا کے فاصلے کاتب کھلا مجھ پہ کہ ہر پردہ درمیاں ہی رہا

ذکر میں، فکر میں، سجدے میں، ریاضت میں بھیایک آواز تھی جو دل میں نہاں ہی رہا

میں نے مانا کہ خطا مجھ سے ہوئی عمر تمامورنہ وہ قرب تو پہلے سے عیاں ہی رہا

راہِ باطن میں جو کھویا تو یہی بات کھلیجس کو پایا تھا وہی میرا نشاں ہی رہا

قمرؔ انجام یہ نکلا ہے اس سفر کے بعدڈھونڈنے والا بھی میں، اور وہ کہاں ہی رہا

— راجا اکرام قمر