6 اشعار

میں خرابوں کا مکیں تھا، خواب کے محلات میں

Main kharabon ka makeen tha, khwaab ke mahallaat mein

میں خرابوں کا مکیں تھا، خواب کے محلات میںخود کو ڈھونڈا، خود کو کھویا عمر بھر کی ذات میں

دل نے جب دنیا کو چھوڑا، راہ پائی قرب کیتب سکوں اترا ہے آ کر درد کے حالات میں

راہِ حق میں جب لٹا دی میں نے اپنی خواہشیںتب اجالا سا اتر آیا فقیرانہ حالات میں

میں نے جب خاموش ہو کر سن لیا دل کا کلامراز کھلنے لگ گئے پھر لفظ سے مناجات میں

میں نے سجدوں میں بھی دیکھا، میں ہی حائل تھا وہاںفاصلہ نکلا نہ کوئی بندگی اور ذات میں

قمرؔ خود سے فرار آخر کہاں تک کام آیاعمر ساری جل کے کٹ گئی اپنی ہی ذات میں

— راجا اکرام قمر