6 اشعار

یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک

Yeh kis ki chashm-e-karam se mila azab achaanak

یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک

«یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانکلُٹا جینے کا سارا ہی شباب اچانک

وہ جس کا لمس دعاؤں کا روپ دھارتا تھابکھر گیا وہی خوش رنگ گلاب اچانک

خبر جو آئی تو آنکھوں سے خواب روٹھ گئےالٹ گئی ورقِ ، عمر کی کتاب اچانک

نہ ہجر کی کوئی حد تھی، نہ وصل کی امیدتمام ہو گیا جینے کا ایک باب اچانک

وہ جن کے دم سے مہکتا تھا موسمِ ہستیبچھڑ گئے مرے سارے احباب اچانک

قمرؔ یہ عشق کی رسموں کا فیصلہ ٹھہراکہ مر گئے دلِ مضطر کے خواب اچانک

— راجا اکرام قمر