6 اشعار

خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہے

Khush hai koi, gham zada koi, ajab haal in mehfilon ka hai

خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہے

«خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہےہر دل میں تلاطم برپا، منظر خراب موسموں کا ہے

بزمِ خیال میں اُن کے لیے جاری ہے اک کشمکشیا رب بتا، یہ مسئلہ کیا سارے خیالوں کا ہے

وادیِ عشق ہے سنگلاخ، ذرا دیکھ سنبھل کرسوال یہاں پر صرف نہیں تیرے نازک پاؤں کا ہے

یہ راستہ جو جاتا ہے تری آنکھ سے ترے دل تکہم سے پوچھ، نہ جانے کتنی کٹھن مسافتوں کا ہے

پتھر ہی پتھر بکھرے ہیں تیرے گھر کے آس پاسمگر راستہ فقط یہی عشق کے دیوانوں کا ہے

بس ایک تو ہی کہیں نظر نہیں آتا، قمرؔورنہ چاند تو ساتوں آسمانوں کا ہے

— راجا اکرام قمر