11 اشعار

دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے

Deed gul-zar-e-jahaa'n kyo'n na karein sair tu hai

دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے

«دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہےایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہے

رندؔ واعظ سے عبث کرتے ہو شر خیر تو ہےدونوں گھر ایک ہیں کعبہ نہ سہی دیر تو ہے

خوشہ چیں بنتا ہے کیوں مزرع ہر دہقاں کاوصف انسان نہیں یہ صفت طیر تو ہے

نہ بسر ہووے گی بے نشہ قدح خواروں کیہو اگر مے کی منادی ہے فلک سیر تو ہے

آشنا بحر محبت کے شناور ہیں سبتو بھی اس آگ کے دریا کو اگر پیر تو ہے

رند و واعظ کے بکھیڑوں میں بھلا کون پڑےسب کو معلوم ہے ان دونوں میں اک بیر تو ہے

مرغ دل مردم بیمار پہ صدقہ کر ڈالواسطے صحت جان کے عمل طیر تو ہے

جیسے اڑتی سی سنی ہے خبر قتل سفیرپوچھتا پھرتا ہوں اک ایک سے کیوں خیر تو ہے

ساقیا چند گھڑے مے کے قدح خواروں میںصرف للٰلہ اگر ہوں عمل خیر تو ہے

در گزر ہوتا ہے اور ہوگا بقدر امکاںآخر کار یہ پاپوش و سر غیر تو ہے

کہہ لیے رندؔ نے سب قافیے کوئی نہ چھٹاانگریزی مگر اک قافیۂ غیر تو ہے

— رند لکھنوی