14 اشعار

عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا

Adu-e-ghair ne tujh ko dilbar banaya

عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا

«عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایاکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایا

کوئی سرو رکھتا نہ تھا راست یہ ہےترے قد کو میں نے صنوبر بنایا

کیا میں نے جلاد اسے اپنے حق میںستم سہتے سہتے ستم گر بنایا

نہ گنتا تھا کوئی حسینوں میں او بتتجھے دے کے دل میں نے دلبر بنایا

شکر لب کہا میں نے کڑوے ہوئے تمعبث منہ کو مجھ سے ستم گر بنایا

عناصر سے خالق نے خلقت بنائیتجھے نور سے حور پیکر بنایا

ترا عاشق زار روز ازل سےبنایا مجھے او ستم گر بنایا

بھلا کیا جواب اس کا دے گا تو قاتلاگر خون کا میں نے محضر بنایا

مری عقل حیراں ہے بار الٰہاطلسمات دنیا کو کیوں کر بنایا

پڑی جان اڑنے لگا میرے عیسیٰروئی کا جو تو نے کبوتر بنایا

ہمہ وقت ممکن نہیں وصل دلبرہنسی کھیل کیا جان مضطر بنایا

وہ ہوں صاحب ظرف ہرگز نہ چھلکااگر خاک کا میری ساغر بنایا

خیال دہن نے کیا تنگ مجھ کوکمر کے تصور نے لاغر بنایا

گھلے سوز فرقت میں اس شمع رو کےیہ حال اپنا کیوں رندؔ جل کر بنایا

— رند لکھنوی