9 اشعار

قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت

Qabr par hovein do na chaar darakht

قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت

«قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

قبر پر ہوویں دو نہ چار درختایک کافی ہے سایہ دار درخت

تھا میں دیوانہ گور پر ہے ضروربید مجنوں کا سایہ دار درخت

ہوں وہ بد بخت میرے سائے سےخشک ہوتے ہیں بار دار درخت

تو جو اے سرو باغ میں جائےثمر و گل کریں نثار درخت

پست ہوں تجھ سے غیرت طوبیٰایک کیا ہوں اگر ہزار درخت

واہ رے میرے آہ کے جھونکےاڑتے پھرتے ہیں کاہ وار درخت

میں جو تاثیر آہ دکھلاؤںکوہ ہل جائیں درکنار درخت

باغ ہستی میں ضعف پیری سےرندؔ ہوں مثل بیخ خار درخت

باغباں کیوں نہ جانے اس کو فضولکر چکے اپنی جب بہار درخت

— رند لکھنوی