10 اشعار

گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں

Gar tujhe rooh-e-rawaan rahat-e-jaan kehte hain

گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیںسب بجا کہتے ہیں جو اہلِ جہاں کہتے ہیں

رخ کو گل قد کو ترے سروِرواں کہتے ہیںلوگ کیا کیا تجھے اے جانِ جہاں کہتے ہیں

مرضِ عشق اطبا سے نہ تشخیص ہواکچھ جنوں کہتے ہیں بعضے خفقاں کہتے ہیں

جو کہ خوگر ہیں تری بوئے دہن کے اے گلغنچۂ گل کو بھی وہ گندہ دہاں کہتے ہیں

زلف و رخ کی سحروشام جو کرتے ہیں دیدگل کو انگارے وہ سنبل کو دھواں کہتے ہیں

یوں پتا پوچھیو اس حور کے گھر کا قاصدکس کے کوچے کو گلستانِ جناں کہتے ہیں

قامتِ یار کو بتلاتے ہیں بعضے شمشاداکثر اس قد کو قیامت کا نشاں کہتے ہیں

جس نے دیکھا تجھے اے جان وہ جاں بر نہ ہوااہلِ دل تجھ کو بجا آفتِ جاں کہتے ہیں

کیوں نہ وہ طفلِ حسیں ہووے عزیزِ دلیوسفِ وقت اسے پیرو جواں کہتے ہیں

سن کے کاٹےہیں سخن کو مرے حاسد اے رندؔاس لئے لوگ مجھے سیفِ زباں کہتے ہیں

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں