19 اشعار

ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا

SaatouN falak kiye teh-o-bala nikal gaya

ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا

«ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیاآخر شب فراق میں نالہ نکل گیا

وحشت نے مجھ پہ عرصۂ ہستی کیا جو تنگگھبرا کے سوئے عالم بالا نکل گیا

سر دے دے باد گیسوئے جاناں کی چاہ میںپیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا

یعقوب وار روتا میں اس بت کے ہجر میںیوسف مرا خدائے تعالیٰ نکل گیا

فرقت میں اس کی شدت گریہ کہاں تلکبرسا برس کے ابر کا جھالا نکل گیا

روکا کیے ملائکہ ہفت آسمان کےساتوں فلک کو توڑ کے نالہ نکل گیا

سوئے نہ ساکنان محلہ سحر تلکبے ساختہ جو رات کو نالہ نکل گیا

کیوں کر نہ روئیے دل گم گشتہ کے لیےناز و نعم سے تھا جسے پالا نکل گیا

پیر مغاں فقیر کو سمجھے شراب خورجس میکدے میں لے کے پیالہ نکل گیا

جاتا نہ گھر سے آپ کے ضد سے رقیب کیلیکن بہ پاس خاطر والا نکل گیا

جھٹکا جو الجھی زلف کو جھنجھلا کے یار نےہالے سے مچھلی کان سے بالا نکل گیا

کس رشک گل کی دیکھی قبا اس نے تنگ چستباہر جو اپنے جامے سے لالہ نکل گیا

دانہ تھا کیا حرام کا رزق حلال میںمنہ سے جو اے کریم نوالہ نکل گیا

بوٹا کہو نہ قامت دلبر کو شاعرواب سرو سے بھی وہ قد بالا نکل گیا

روندا کیا میں خار بیاباں کو اے جنونہر اک بچا کے پاؤں کا چھالا نکل گیا

کمبل میں اپنے گرم رہا میں فقیر مستکیا گیا نہ دور دار دونا نکل گیا

پھر چل دلا نہ کوچۂ گیسو کا قصد کرہے آج راہ کاٹ کے کالا نکل گیا

اکتا گیا بتنگ ہوا کیا کرے غریبآخر تمہارا چاہنے والا نکل گیا

مہمان ہے فقیر ہے سن لیں گے آپ رندؔمرشد کا اپنے کر کے پیالا نکل گیا

— رند لکھنوی