غزل 12 اشعار

اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتا

Ab ek dard bhi dil mein nazar nahin aata

اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتاکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتا

یہ دل بھی دوست فراموش کم نہیں تجھ سےکہ مدتوں نہیں آتا جدھر نہیں آتا

نہ سوئیں دن کو وہ راتوں کو جاگتے ہیں ضرورنہیں تو آنکھ میں اتنا اثر نہیں آتا

انہیں کی بات ہیں جو میں نے یاد کر لی ہیںمگر وہ ان کی زباں کا اثر نہیں آتا

مراقبے میں ہے کیا کیا مشاہدہ اے شیخبغیر اس کے نظر میں اثر نہیں آتا

عدم کے نام سے ہر ایک کیوں رہے بشاشہر ایک شخص کو لطف سفر نہیں آتا

علاج اور مرض میں نہ تھی کوئی نسبتہمارے سامنے اب چارہ گر نہیں آتا

گھٹی ہی جاتی ہیں ہر روز قوتیں دل کیمیں اس کے صدقے جو ارمان بر نہیں آتا

دعا کے ڈھنگ ہی احباب کو نہیں آتےغلط ہے یہ کہ دعا میں اثر نہیں آتا

وہ درد مول کہ ہو رات دن کی نیند حرامتو دیکھ آہ میں کیسا اثر نہیں آتا

اسی نے کہہ دیا اچھا ہوا کہ وہ کیا ہےمری سمجھ میں تو یہ عمر بھر نہیں آتا

صفیؔ کو شاعری آتی ہے وہ بھی کچھ یوں ہیاسے بس اور تو کوئی ہنر نہیں آتا

— صفی اورنگ آبادی