غزل 7 اشعار

رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہے

Ranj hai us ranj se hum ko to gham us gham se hai

رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہے

کیا پڑی ہے پھر کسی کے واسطے روتا ہے کیوںآبروئے عشق اپنے دیدۂ پر نم سے ہے

جھوٹے منہ کوئی تسلی بھی نہیں دیتا کبھیپھر یہ کیوں صاحب سلامت اپنی اک عالم سے ہے

دشمنوں کا دو ہی دن میں سب بھرم کھل جائے گاان کی ساری شان و شوکت ایک میرے دم سے ہے

ہاتھ جوڑے منتیں کیں خیر وہ تو من گئےاور لوگوں کو بھی اب ایسی تمنا ہم سے ہے

اس مذاق خاص کے بھی لوگ دیکھے ہیں کہیںآپ کی بھی جان پہچان آخر اک عالم سے ہے

سب صفیؔ کی آہ پر بے ساختہ کہتے ہیں واہاس کا رونا بھی مگر کچھ تال سے ہے سم سے ہے

— صفی اورنگ آبادی